اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے صدر فرانسوا اولینڈ، جرمن چانسلر انجلا مرکل اور یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے مشرقی یوکرین کے علاقوں میں فوری جنگ بندی کی ضرورت پر تاکید کی ہے- فرانس کے صدر نے یوکرین کی حکومت اورمخالفین کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے ایک روز بعد جرمن چانسلر اور یوکرین کے صدر سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور مشرقی یوکرین کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا- انہوں نے علاقے میں فوری جنگ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا- دوسری جانب یوکرین کی حکومت اور مخالفین کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد مغربی حکام یوکرین کو فوجی امداد دینے کا جائزہ لے رہے ہیں- نیٹو کے فوجی کمانڈر اور اسی طرح امریکی صدر کا خیال ہے کہ یوکرین کی مزید حمایت کے لیے اسے ہتھیار فراہم کیا جائے - اگرچہ امریکی صدر باراک اوباما نے یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کے بارے میں ابھی کوئي فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن امریکی حکومت اس مسئلے کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ نیٹو کے فوجی کمانڈر جنرل فلپ بریڈلو یوکرین کی فوج کو ہتھیار ارسال کرنے کی حمایت کر رہے ہیں- ادھر جمہوریت اور انسانی حقوق کے امور میں روسی وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا ہے کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک یوکرین کے مسئلے میں دوہرے معیار پر عمل پیرا ہیں اور یوکرینی فوج کے جرائم پرآنکھیں بند کئے ہوئے ہيں - کنسٹانٹین دولگوف نے مشرقی یوکرین کے عام شہریوں پر یوکرینی فوج کے حملوں کے بارے میں امریکہ اور یورپی ممالک کی لاتعلقی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کو یوکرین کے مسئلے میں دوہرے معیارات پر عمل کرنے سے گریز کرنا چاہیے- انہوں نے کہا کہ یوکرین کے مشرقی اور جنوبی علاقوں پر گولہ باری کہ جس میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے جارہے ہيں، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے- دولگوف نے یوکرینی فوجیوں پر دونیسک صوبے کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری اور متعدد انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان جرائم کے ذمہ داروں کو اپنے ان اعمال کا جواب دینا پڑے گا-
.......
/169